اہم خبریں

پی ٹی آئی اس وقت ہر صوبے میں تقسیم اور تنظیمی خلا کا شکار ہے،شیر افضل مروت کا دعویٰ

اسلام آباد (  اے بی این نیوز  )شیر افضل مروت نےکہا کہ پی ٹی آئی اس وقت ہر صوبے میں تقسیم اور تنظیمی خلا کا شکار ہے، جس کی وجہ سے بڑے احتجاجات اور مؤثر سیاسی سرگرمیوں کا انعقاد مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہنماؤں کی مشترکہ حکمت عملی اور مربوط کارروائی کے بغیر کسی بڑی تحریک کو کامیاب بنانا ممکن نہیں۔

انہوں نے لاہور کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تنظیمی سرگرمیوں اور عوامی استقبال میں واضح کمی دیکھی گئی، جو پارٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ کراچی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ شہر میں مختلف سیاسی گروپس متحرک ہیں اور اندرونی گروپنگ جاری ہے، جس سے پارٹی دباؤ میں آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کی ممکنہ سیاسی سرگرمیوں سے بھی شہر کی سیاست پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔اے بی این نیوز کے مقبول پروگرام ڈیبیٹ @8 میں بات چیت کرتے ہو ئے کہا کہ
احتجاجی سیاست اور دیگر سرگرمیوں میں ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پارٹی کو اپنی حکمت عملی، اختیارات اور تنظیمی ڈھانچے پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاست میں مذاکرات اور بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں اور پی ٹی آئی کو عوامی اثر و رسوخ مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ پیپلزپارٹی سرمایہ داروں کے بجائے کمزور اور محروم طبقات کی نمائندہ جماعت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عوام مایوس نہیں ہوں گے اور موجودہ سال ملک اور سیاست کے لیے مثبت ثابت ہوگا۔ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل اسی وقت آگے بڑھے گا جب عوام کو سیاست میں فعال طور پر انگیج کیا جائے گا، جبکہ نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر سیاسی نظام میں استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں کیونکہ برداشت اور مکالمے سے ہی جمہوری عمل مضبوط ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی کشیدگی نے عوام اور نظام دونوں کو دباؤ میں ڈال رکھا ہے اور صوبوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ بھی تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق عوام ملک میں سیاسی استحکام دیکھنا چاہتے ہیں اور سیاسی قیادت کے پاس استحکام کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ندیم افضل چن نے زور دیا کہ مذاکرات اور بات چیت ہی تمام مسائل کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایجنڈے پر اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے اور تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانا اور آگے لے جانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام فریقین کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر ملک کے مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔
مزید پڑھیں :احتجاجی مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے، جا نئے کتنے افراد جان سے گئے

متعلقہ خبریں