سوات ( اے بی این نیوز )سوات میں سرینا ہوٹل سے 40 سال بعد وزیر ہاؤس کی تاریخی عمارت کیوں واپس لی گئی؟سوات کی وادی میں واقع قدیم پتھروں سے بنی تاریخی عمارت، جسے وزیر ہاؤس کے نام سے جانا جاتا ہے، چار دہائیوں تک ایک لگژری سرینا ہوٹل کے طور پر استعمال ہوتی رہی، تاہم اب یہ عمارت یکم جنوری 2026 سے دوبارہ حکومتِ خیبر پختونخوا کے حوالے کر دی گئی ہے۔محکمہ کلچر کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللہ عارف کے مطابق ابتدا میں اس عمارت کا کرایہ پانچ لاکھ روپے ماہانہ تھا جو 30 سال میں بڑھ کر صرف سات لاکھ روپے تک پہنچا، جو موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مقابلے میں انتہائی کم تھا۔ عدالتی فیصلوں کے بعد 31 دسمبر 2025 تک عمارت خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی، جس پر اب عمل درآمد ہو چکا ہے۔
44 کنال پر پھیلی اس تاریخی عمارت میں 55 کمرے، وسیع لان، سوئمنگ پول اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب اس عمارت کی لیز اوپن مارکیٹ میں دی جائے گی، جس سے سالانہ آمدن سات سے دس کروڑ روپے تک متوقع ہے، تاہم عمارت کے تاریخی حسن میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے رہنما زاہد خان کے مطابق یہ عمارت اصل میں سوات ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی ملکیت تھی اور 1985 میں اسے سرینا ہوٹل کو دینا ایک غلط فیصلہ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق اب 15 سالہ لیز کے تحت نجی شعبہ جدید ضروریات کے مطابق سہولیات متعارف کرا سکے گا، جیسے کانفرنس ہالز، تاہم تاریخی ڈھانچہ برقرار رکھا جائے گا۔
یہ عمارت 1935 میں والی سوات میاں گل عبدالودود نے اپنے وزیر کی رہائش کے لیے تعمیر کرائی تھی، اسی لیے اسے وزیر ہاؤس کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں اسے ریاستی مہمان خانے کے طور پر بھی استعمال کیا گیا جہاں ملکہ الزبتھ دوم، پرنس فلپ، عالمی وفود، وزرائے اعظم اور صدور نے قیام کیا۔وقت کے ساتھ یہ عمارت پی آئی اے کے دفتر کے طور پر بھی استعمال ہوئی،حکومتی مؤقف کے مطابق وزیر ہاؤس کی واپسی کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، شفاف لیزنگ اور صوبے کے لیے بہتر مالی فوائد حاصل کرنا ہے، جبکہ مستقبل میں اسے سیاحت کے فروغ کے لیے مزید مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں :پانچ بڑوں کی ملاقات؟پی ٹی آئی کا موقف بھی آگیا،جا نئے کیا اور جھگڑا کیسے ختم ہو گا، عامر ڈوگر نے بتا دیا















