اہم خبریں

سیاسی اختلاف کو طاقت سے دبانا قابل قبول نہیں، جمہوریت میں آواز اٹھانا حق ہے،پی ٹی آئی

اسلام آباد( اے بی این نیوز)پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر شفقت ایاز نےکہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور پاکستان کے ہر کونے میں سیاسی سرگرمیوں کی مکمل اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منتخب نمائندوں کو غیر منتخب قوتوں کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہیے اور مذاکرات اپنی جگہ ہیں، لیکن آئینی حقوق پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
سیاسی اختلاف کو طاقت سے دبانا قابل قبول نہیں اور جمہوریت میں آواز اٹھانا حق ہے، نہ کہ تباہی۔ غیر منتخب سیٹ اپ کے ساتھ کھڑا ہونا قابل شرم ہونا چاہیے اور وزراء کو گریبان پکڑنے کے بجائے آئین کا احترام سکھانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 16 اور 17 ہر شہری کو آواز اٹھانے اور پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور کسی بھی کونے میں پرامن احتجاج جرم نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر کی دعوت پر اسمبلی جانا آئینی عمل ہے اور سیاسی سرگرمی کو سازش بنانا جمہوریت دشمنی ہے۔

ڈاکٹر شفقت ایاز نے بتایا کہ مذاکرات کے لیے علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی رابطے میں ہیں اور پارٹی کی جانب سے منتخب اراکین کے ساتھ رابطہ اور مشاورت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ مذاکرات کا مقصد امن، شفافیت اور مشترکہ سیاسی فیصلے ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی ڈاکٹر شفقتایاز نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کوسڑک پر گاڑی سے اتارااور تمام منسٹر زکو راستے میں ہی روکا گیا۔ پھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نہیں جانے دے رہے تھے ہم نے سہیل آفریدی کی گاڑی زبردستی وہاںپر پہنچائی لیکن ہمارے جو منسٹر زاور سیکیورٹی اہلکار تھے ان کو باہر ہی گیٹ پر روکے رکھا ان کے نام، آئی ڈی کارڈ اور تلاشی لے کے چیک کرکرنے کے بعد جانے دیا گیا تو پنجاب اسمبلی داخلے کے دوران ہر انٹری پوائنٹ پر ہماری تذلیل ہوتی رہی ہے ۔

اے بی این نیوز کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئےڈاکٹر شفقتایاز نے کہا کہ ہم آخری دروازے سے جا رہے تھے توہمارے صوبائی وزیر کیساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔ اور ایک منسٹر کے ساتھ سوال جوابکئے جا تے رہے ان سے کیا لینا تھا اگر یہ نارمل حالات میں سوالات کیے ہوتے توکوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے ہاتھاپائی کی تھی جس سے ماحول خراب ہوا تھا۔ منسٹرز کو گریبانوں سے پڑکر دھکیلااور ذلیل کیا گیا،ماضی میں عظمیٰ بخاری نے ہمارے بارے میں جنگلی ، ڈرگ مافیااور چرسی پوڈری جیسے کلمات تک استعمال کئے۔ اسمبلی کے فلور میں شدیدہتک آمیز نعرے بازی تک کیگئی۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے بجائے عظمیٰ بخاری اور مریم نواز کو بھی شرم دلائیں کہ ایک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ اس طرح کا رویہ نہ رکھیں ، آپ ان پربھی بات کریں جو پنجاب میں ہمارے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنایا گیا،سیاسی پارٹی کے پاس آرٹیکل 60،70 کے تحت اختیار ہے وہ پاکستان میں کسی بھی کونے یا علاقے میں احتجاج کرے  اور اپنی پارٹی کے لیے آواز اٹھائے ۔
مزید پڑھیں :ڈاکٹر یاسمین راشد کا اہم اعلان سامنے آگیا،جا نئے کیا قدم اٹھانے جا رہی ہیں

متعلقہ خبریں