شمالی کوریا(اے بی این نیوز)شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایسے نئے ملٹی پل راکٹ لانچرز تیار کرنے والی ایک فیکٹری کا دورہ کیا ہے جو جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے ان ہتھیاروں کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکوز حملے کے ذریعے دشمن کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں اور ماہرین کے مطابق کسی بھی ممکنہ تنازع کی صورت میں شمالی کوریا کی وسیع توپ خانے کی طاقت اور شدید نوعیت کے حملے اس کی عسکری حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
رینڈ تھنک ٹینک کی 2020 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگر شمالی کوریا کا توپ خانہ جنوبی کوریا کے بڑے آبادی مراکز، خصوصاً دارالحکومت سیول، کو نشانہ بنائے تو صرف ایک گھنٹے میں 10 ہزار تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔
کم جونگ اُن کا یہ دورہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل پیانگ یانگ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے دو اسٹریٹجک طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، جسے بیرونی خطرات کے خلاف جنگی تیاری کا مظہر قرار دیا گیا تھا۔
کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق، میزائل پروگرام کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ فیکٹری کا دورہ کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہا کہ یہ نیا ہتھیار ان کی فوج کا اہم حملہ آور ذریعہ ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نظام اسٹریٹجک حملوں میں استعمال ہو سکتا ہے، جو عموماً جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
کم جونگ اُن نے نئے ملٹی پل راکٹ سسٹم کو ایک انتہائی طاقتور ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچانک، درست اور انتہائی تباہ کن حملوں کے ذریعے دشمن کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اس نظام کو فوجی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں اور مرکوز حملوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ریاستی میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں کم جونگ اُن کو ایک وسیع فیکٹری میں دیوہیکل میزائل سسٹمز کے ساتھ کھڑے دکھایا گیا، جہاں دیواروں پر سرکاری نعرے اور پروپیگنڈا بھی آویزاں تھا۔
کوریائی انسٹیٹیوٹ فار ملٹری افیئرز کے سینئر محقق ہونگ سنگ پیو کے مطابق شمالی کوریا اب اپنی اسٹریٹجک فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔
ان کے مطابق جنوبی کوریا کے نقطۂ نظر سے اس کا مطلب یہ ہے کہ شمال کی جانب سے فوجی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں میزائل تجربات میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نہ صرف حملوں کی درستگی بڑھانا ہے بلکہ امریکا اور جنوبی کوریا کو چیلنج کرنا اور ممکنہ طور پر ہتھیاروں کو روس برآمد کرنے سے قبل ان کی جانچ بھی شامل ہے۔
پیانگ یانگ میں 2026 کے اوائل میں حکمران جماعت کا ایک اہم اور تاریخی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جو گزشتہ 5 برسوں میں اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اس اجلاس میں معاشی پالیسی کے ساتھ ساتھ دفاعی اور عسکری منصوبہ بندی سرفہرست ایجنڈے میں شامل ہوں گی۔
مزید پڑھیں۔شفیع جان نے عظمیٰ بخاری سے متعلق بیان پر معافی مانگ لی















