اسلام آباد (اے بی این نیوز)حکومت نے معاشی پالیسی کے بڑے فیصلے کے طور پر ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کرنے کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہم پیش رفت ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت نجی شعبے کو معاشی حکمت عملی کے مرکز میں رکھا جا رہا ہے، اسی سلسلے میں 1991 سے نافذ 0.25 فیصد سرچارج کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی کابینہ منظوری جاری ہے۔ ان کے مطابق ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے گورننس نظام میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ سیمنٹ پیداوار میں 16 فیصد، کھاد میں 9 فیصد، پیٹرولیم میں 4 فیصد، آٹو سیکٹر میں 31 فیصد اور موبائل فون مینوفیکچرنگ میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی طور پر بڑی صنعتوں کی پیداوار 4.1 فیصد بڑھ گئی ہے۔ برآمدات بھی 5 فیصد بہتر ہوئی ہیں، اور آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انہوں نے ریکوڈک کے مالیاتی انتظام کو پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں نئی تبدیلی کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مستقبل میں سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر کی برآمدات میں مدد دے گا۔ ترسیلات زر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں اور رواں سال یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط سہارا ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی آفس اب فعال ہو چکا ہے، جو آئندہ بجٹ سمیت ٹیکس پالیسی سازی کی مکمل ذمہ داری سنبھالے گا، جبکہ ایف بی آر نفاذ اور ٹیکنالوجی پر توجہ دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پنشن، قرض، توانائی، ریاستی اداروں اور ڈیجیٹل اکانومی سمیت اہم شعبوں میں اصلاحات تیزی سے جاری ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کی مقامی قرض کی سطح 9 سال بعد پہلی بار مستحکم ہوئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں کمی کے بعد ڈیٹ سروسنگ اخراجات کم ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ دسمبر یا چینی نئے سال سے پہلے جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا عمل شروع ہو رہا ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان محصولات اور گورننس سے متعلق اہم معاملات پر مشاورت ہوگی۔ عالمی کرپشن و گورننس رپورٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ حکومت پاکستان کی درخواست پر تیار کی گئی ہے، جس میں ٹیکس اور گورننس کے شعبوں میں پیش رفت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
ٹیکس اور توانائی کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باضابطہ شعبے کے مطالبات پر کام جاری ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور لیکجز کم کرنے کے لیے اقدامات ہو رہے ہیں۔ صنعتوں کو ریفنڈز کی ادائیگی 200 ارب سے بڑھ کر 250 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سرکلر ڈیٹ میں کمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
آخر میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ توانائی، آئی ٹی، مائننگ، ٹیلی کام، لاجسٹکس اور ای وی مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں عالمی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بحران سے نکل چکا ہے اور اب ایک پائیدار، برآمدی اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور حکومت معیشت سے متعلق پیش رفت پر ہر ماہ میڈیا کو بریف کرتی رہے گی۔
مزید پڑھیں :اے این پی نے کے پی میں گورنر راج کی مخالفت کر دی















