پشاور (اے بی این نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے 5300 ارب کا حساب لینے کا عندیہ دے دیا۔
پشاور میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام مکمل طور پر بے نقاب ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے سٹوڈنٹ فیڈریشن سے شروعات کی اور آج وزیراعلیٰ ہوں، کچھ لوگ بات کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی احتجاجی سیاست کرتی ہے۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ انصاف ملتا تو پی ٹی آئی احتجاجی سیاست نہ کرتی، تمام آئینی اور قانونی طریقے اپنائے گئے لیکن بانی سے ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ اب ہمارے پاس احتجاج کے سوا کون سا آئینی راستہ رہ گیا ہے۔ یہ نظام پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا یہ بھی کہنا تھا کہ 9 مئی کے بعد پریس کانفرنس کرنے والوں کو بری کردیا گیا، بانی چیئرمین کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو سزا دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو وفاق پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ہمارے حقوق نہیں دے رہا، دوسری طرف آئی ایم ایف ہم پر الزام لگا رہا ہے کہ 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، ہمیں اس کا حساب لینا ہوگا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کو این ایف سی میں اس کا حصہ نہیں دیا جا رہا، خالص ہائیڈل منافع کی مد میں 2200 ارب روپے کا بقایا وفاق کی ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں:سری لنکن کپتان نے اسپنرز کے خلاف ناکامی کا اعتراف کر لیا















