اسلام آباد( اے بی این نیوز) سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات کافی عرصے سے نہیں کرائی جا رہی۔ اس صورتحال پر عمران خان کی بہن نورین نیازی اس وقت بھارتی ٹی وی چینلز کو انٹرویوز دے رہی ہیں۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ “اگر ملاقات نہ کرائی گئی تو خیبر پختونخوا سے لوگ آئیں گے، جیل توڑ دیں گے اور عمران خان سمیت سب کو رہا کرا لیں گے”۔
یہ بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑی بحث جاری ہے کہ کیا نورین نیازی کو بھارتی میڈیا پر ایسے انٹرویوز دینے چاہییں یا نہیں؟
یہ بات واضح ہے کہ 4 نومبر کے بعد سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ پی ٹی آئی مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ کم از کم بہنوں کی ملاقات لازمی کرائی جائے۔ حکومت کی طرف سے اشارے ملے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اب تک ملاقات کیوں نہیں کرائی گئی؟ کیا کسی احتجاج یا کسی بڑے ردِعمل کا خطرہ تھا؟ ان تمام امور پر آج کے پروگرام میں گفتگو کی گئی۔
شوگر مافیا پر رپورٹ
پروگرام میں بتایا گیا کہ چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس اضافے کی وجوہات بھی زیرِ بحث آئیں۔
مسابقتی کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 10 شوگر ملز نے ملی بھگت سے کارٹل بنایا اور کسانوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ کرشنگ بھی روکی گئی۔ کمیشن نے ان ملز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔
معاون خصوصی برائے وزیراعظم حذیفہ رحمان نے اے بی این کے پروگرام ڈیبیٹ ایٹ 8 میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سزایافتہ مجرم” ہیں، اس لیے ان کے تمام بنیادی سیاسی حقوق معطل ہو چکے ہیں۔عمران خان جیل سے سیاسی جماعت چلانا چاہتے ہیں، جو قانون کے مطابق ممکن نہیں۔پہلے ملاقاتیں ہو رہی تھیں، مگر بعض حساس اطلاعات کی وجہ سے اب روک دی گئیں۔
حکومت کے پاس رپورٹس تھیں کہ عمران خان کی ملاقات کے بعد ممکنہ طور پر 26 نومبر جیسی چڑھائی یا احتجاج دوبارہ ہو سکتا تھا۔بہنوں کی ملاقات ان کا بنیادی حق ہے، لیکن سیاسی ملاقاتیں نہیں کرائی جائیں گی۔اگلے ہفتے تک ان کی بہنوں کی ملاقات کرا دی جائے گی بشرطیکہ اسے سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
پی ٹی آئی رہنماشاہد خٹک نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہاکہ یہ حکومت عمران خان سے ڈرتی ہے۔عمران خان عوام کے دلوں کے لیڈر ہیں، ان کا پیغام ضرور آئے گا۔حکومت نے 8 فروری کا مینڈیٹ چرایا ہے۔احتجاج ہمارا آئینی حق ہے۔ ہم پُرامن احتجاج کریں گے، ایک پتا بھی نہیں ٹوٹے گا۔نورین نیازی نے بھارتی میڈیا پر انٹرویو اس لیے دیا کہ حکومت ملاقات نہ کرا کر پروپیگنڈا پھیلا رہی تھی کہ عمران خان کی صحت ٹھیک نہیں۔حکومت اگر کل ملاقات کرا دے تو یہ پراپیگنڈا خود ختم ہو جائے گا۔
ن لیگی رہنماحذیفہ رحمان کا جواب میںکہا تھا کہ “ہم احتجاج سے نہیں ڈرتے، لیکن خونریز چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے۔پی ٹی آئی کی سیاسی تربیت میں پرتشدد احتجاج شامل ہے، جیسا کہ پی ٹی وی حملہ اور 9 مئی کے واقعات۔اگر بہنیں صرف بہنوں کی حیثیت میں ملنا چاہیں، سیاسی پیغام رسانی نہ ہو، تو ہم اسی ہفتے ملاقات کرا دیں گے۔
مزید پڑھیں:لورالائی اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے















