راولپنڈی(اے بی این نیوز)بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے اڈیالہ جیل میں خاندان کے افراد، خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور پارٹی رہنماؤں کی 20 سے 30 منٹ تک ملاقات ہوئی، جس میں آئندہ سیاسی حکمت عملی، لانگ مارچ، ممکنہ دھرنے اور عدالتی معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں علیمہ خان، نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ شامل تھیں، جب کہ بعض قانونی نمائندوں اور وزراء کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران پارٹی قیادت کو آئندہ کے سیاسی اور قانونی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کیں، جن میں عدالتی توہین کے خلاف فوری پٹیشنز داخل کرنے، پارٹی نظم و ضبط کو مضبوط کرنے، سینئر قیادت کے باہمی رابطوں کو شفاف بنانے اور خیبر پختونخوا میں حکومتی ٹیم کی ازسرنو تنظیم شامل ہے۔
عدالتی کارروائیوں میں رکاوٹوں پر تشویش ، فوری پٹیشنز کی ہدایت
ملاقات میں عمران خان نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پارٹی رہنماؤں اور قانونی ٹیم کو مسلسل عدالتوں تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ’’توہینِ عدالت‘‘ کے زمرے میں آتا ہے، جس پر فوری طور پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پٹیشنز دائر کی جائیں۔
عمران خان نے واضح کیا کہ جس روز ان کے اہم مقدمات—خصوصاً توشہ خانہ II کیس—اختتامی مراحل میں داخل ہوں گے، ’’انہیں مکمل تنہائی میں رکھنے کی کوشش کی جائے گی،‘‘ جس کے تدارک کے لیے پارٹی کی سینئر قانونی ٹیم کو فوری متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پیغام رسانی کے لیے واحد چینل ، سلمان اکرم راجہ
عمران خان نے ملاقات میں پارٹی کے اندر پیغام رسانی کے عمل میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا سخت نوٹس لیا اور دو ٹوک فیصلہ دیا کہ آئندہ ان کے تمام پیغامات صرف اور صرف پارٹی کے سیکرٹری جنرل **سلمان اکرم راجہ** کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد مواقع پر قانونی ٹیم کو ملاقات کی اجازت نہ ملنے یا پیغامات میں تضاد کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، جنہیں اب ختم کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی ٹیم ، وزیرِ اعلیٰ کو مکمل اختیار
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ انہیں مکمل اختیار ہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق چھوٹی مگر فعال ٹیم خود تشکیل دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی فرد کا نام تجویز نہیں کیا اور نہ کسی کو ہٹانے یا شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
عمران خان نے خاص طور پر اس غلط تاثر کو رد کیا کہ ان کی جانب سے احمد چٹھہ یا بلال حجاز کو کسی عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ میرے پرانے ساتھی ہیں، میں نے کسی تبدیلی کا حکم نہیں دیا۔‘‘
جذبۂ عوام اور جلسوں پر اطمینان کا اظہار
ڈاکٹر عثمان نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان کو کے پی کے حالیہ جلسوں، عوامی جوش و خروش اور سیاسی سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں، جس پر عمران خان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تنظیمی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا۔
پارٹی رہنماؤں اور عوام کی اس خواہش کا بھی ذکر کیا گیا کہ عمران خان کی رہائی کے بعد لانگ مارچ اور بڑے ملک گیر احتجاجی پروگرام شروع کیے جائیں۔ ڈاکٹر عثمان کے مطابق عمران خان ہمیشہ کی طرح اس موقع پر مسکرائے اور صورتحال کو غور سے سنا۔
کشمیر اور پارٹی تنظیم پر ہدایات
ملاقات کے دوران عمران خان نے کشمیر کے مسئلے پر تازہ صورتحال، پارٹی کے کشمیر چیپٹر میں بعض نامزدگیوں کی تاخیر اور تنظیمی معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور متعلقہ رہنماؤں کو ہدایت کی کہ میرٹ پر فوری فیصلے کیے جائیں۔
عدالتی کارروائیوں میں بیٹھ کر احتجاج کی ہدایت
عمران خان نے پارٹی کو ہدایت دی کہ عدالتی رکاوٹوں کے خلاف صرف پٹیشنز دائر نہ کریں بلکہ ضرورت پڑنے پر عدالتوں کے باہر پرامن دھرنا یا احتجاج کی بھی حکمت عملی اختیار کریں، اور ’’جب تک درخواستیں وصول نہ کی جائیں، وہاں سے نہ اٹھیں۔‘‘
مزید پڑھیں:فتنہ الخوارج نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی















