اسلام آباد (محمد ابراہیم عباسی) اسلام آباد ہائیکورٹ میں کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی رندھاوا کو چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا اضافی عہدہ دینے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے عدالت کو بتایا کہ کمشنر اسلام آباد کے پاس چیئرمین سی ڈی اے کا اضافی عہدہ ہونے کی وجہ سے ڈبل اپائنٹمنٹ کا مسئلہ پیدا ہوا ہے، جسے چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے کا عہدہ فل ٹائم ہے، اس کے لیے مستقل تعیناتی ہونی چاہیے تاکہ کام متاثر نہ ہو۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا ہم اپنے دارالحکومت کو اس طرح چلا سکتے ہیں۔
ریاض حنیف راہی نے عدالت کو بتایا کہ 2021 سے اب تک پانچ چیئرمین تبدیل ہو چکے ہیں، اس متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانون موجود ہے اور اسے دیکھا جا رہا ہے۔
ریاض حنیف راہی نے مزید کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم کی تعیناتی کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، اور کہا کہ اسحاق ڈار وزیر خارجہ اور قائد ایوان بھی ہیں، ان کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔
عدالت نے کہا کہ پہلے سی ڈی اے سے متعلق درخواست کا فیصلہ کر لیا جائے، پھر باقی امور کو دیکھا جائے گا۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔
پنجاب حکومت کی 50 فیصد سرکاری عملے کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت















