اہم خبریں

آئی ایم ایف سے قرض کا نیا معاہدہ پاکستان کے لیے آخری ہو گا، شہباز

اسلام آباد( نیوز ڈیسک )وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کا تازہ ترین طویل معاہدہ پاکستان کا آخری ہو گا اور انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ریونیو کی وصولی بڑھانے کے لیے اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے تاکہ ملک کوقرض سے نجات مل سکے۔

۔ہفتہ کو اسلام آباد میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ جو شعبے ٹیکس ادا نہیں کر رہے انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، اس بات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہ اسے انتہائی جامع اور مربوط انداز میں انجام دیا جائے گا۔

انہوں نے ریونیو اکٹھا کرنے والے ادارے کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔شہباز شریف نے گزشتہ مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 30 فیصد اضافہ حاصل کرنے پر ایف بی آر کی تعریف کی۔ انہوں نے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 13 کھرب روپے کے ٹیکس وصولی کے ہدف تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تاہم وزیر اعظم نے کہا کہ تاجروں اور سرمایہ کاروں کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ انہیں مکمل سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ٹیکس واجب الادا ہے وہاں وصول کیا جائے۔شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے کو محفوظ بنانے پر فنانس ٹیم کی تعریف کی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی قرض دہندہ کا بورڈ بھی اس کی منظوری دے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس قرضہ پروگرام کو ملکی تاریخ کا آخری پروگرام بنانے کے لیے تیزی اور انتھک کام کیا جائے۔انہوں نے میکرو اکنامک اشاریوں کو بڑھانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ساختی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: نظریہ ضرورت ہمیشہ قوموں کو نقصان پہنچاتا ہے،عظمیٰ بخاری

متعلقہ خبریں