لاہور(نیوز ڈیسک ) لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے حساس اداروں کو فون ٹیپنگ کی اجازت دینے کے خلاف درخواست پر جمعہ کو لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے سابق رکن صوبائی اسمبلی غلام سرور کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی۔ اس نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ درخواست میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں، ایسے میں کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ 10 جولائی کو وفاقی حکومت کی جانب سے حساس ادارے کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت دینے کے اختیار کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن میں حساس ادارے کو لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کی اجازت دی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ایکٹ کی سیکشن جس کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس پر ابھی عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ پاکستان کا آئین شہریوں کو رازداری اور اظہار رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔مزید کہا گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق بھی لوگوں کے فون ٹیپ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت حساس ادارے کی فون ٹیپنگ کی اجازت دینے کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے۔ درخواست کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کا عمل معطل کیا جائے۔
مزید پڑھیں: حسن خیل آپریشن کے شہداء کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا















