اہم خبریں

کھیلوں کو سیاست سے پاک کرنا ہو گا،احسن اقبال

اسلام آباد ( اے بی این نیوز    )وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کھیلوں کو سیاست سے پاک کرنا ہو گا، 2025 کو ’ریواوئیول آف سپورٹس‘ کے سال کے طور پر منانا چاہتے ہیں،ہمیں2028 کی اولمپک گیمز کی ابھی سے تیاری کرنا ہو گی،اگلے سال سیف گیمز کا انعقاد ہو گا،سیف گیمز کی تیاری کیلییے نیشنل گیمزاور قائد اعظم گیمز کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں،کھلاڑیوں کیلیئے انڈونمنٹ فنڈز قائم کرنے جا رہے ہیں،کھلاڑیوں کیلیئے ہیلتھ کازڈ کا اجرا بھی کرینگے،ہاکی کے کھلاڑیوں کو ملازمتیں فراہم کرینگے،کھیلوں میں دھڑے بندی کو ختم کرنا ہو جبکہ 2028 کی اولمپک گیمز کیلیئے ٹاسک فورس بنائینگے۔ مزید پڑھیں : خیبر پختونخوا حکومت نے پنجاب کے کسانوں سے گندم کی خریداری شروع کردی
سپورٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہم نےاس ورکشاپ میں کھیلوں کی بحالی کو فو کس کرنا ہے،کھلاڑیوں کو فتح کو اپنا مقصد بنانا ہو گا،بیرون ممالک کے تارکین وطن ہمیں ایک ذہین قوم کے طور پر جانتے ہیں،ہم نے اپنی کامیابیوں کہ خود دھندلایا،اتنی بڑی قوم کے ہوتے ہوئے ہم میڈل حاصل نہیں کر سکتے،اس کیلیئے غیر ملکی کوچز لائیں گے،سی پیک منصوبے کے تحت چین سے کھلاڑیوں کی کوچنگ کی بات کی ہے،ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کی بحالی کیلیئے اداروں کو خط لکھ رہے ہیں،سابقہ دور حکومت میں سات آسٹروٹرف کیلیئے فنڈز فراہم کیئے،مزید فنڈزکی فراہمی کو یقینی بنائیں گے،تمام کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنائنیگے، اس کیلیئے فنڈز فراہم کرینگے،ہاکی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

اتحاد کی صورت میں ہم شرمندگی سے بچ جائینگے،نارووال سپورٹس سٹی بنانے پر تین ماہ جیل کاٹناپڑی،اس منصوبے کو روکنے سے اس کی لاگت میں اضافہ ہو،کھلاڑی اپنا سبز ہلالی پرچم بلند کرتے ہیں۔بعدازاں احسن اقبال نےسپورٹس کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے شرکا کی سپورٹس کی ترقی کے حوالے سےتجاویز پر عملدرآمد کرینگے،گراس روٹ لیول سطح سے کھلاڑیوں کو سامنے لائینگے،میرٹ پر سیلیکشن کرینگے،یونیورسٹیزکو اولمپک گیمز کا انعقاد کرنا ہو گا،سکولوں میں کھیلوں کے انعقاد کو یقینی بنانا ہو گا۔

مزید پڑھیں :بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل سےاہم پیغام جاری کر دیا

بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالی فیڈریشنز کی گرانٹس میں اضافہ کرینگے۔وفاقی سیکرٹری آئی پی سی ندیم ارشد کیانی نے اسپورٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپورٹس زندگی کا حصہ ہے سپورٹس میں کبھی کامیابی تو کبھی ناکامی کا سامنا ہوتا ہے،سپورٹس بورڈ میں کافی مافیاز تھے جن کو ختم کرنے کے لیے بہت کوشش کی اور انکا حل نکال لیا،پاکستان سپورٹس بورڈ پر فوکس ہے تاکہ وہ کھیلوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے، حال ہی میں فیڈریشنز کے لیے کوڈ آف کنڈیکٹ بنایا تین فیڈریشنز کے خلاف کارروائی بھی کی۔حال ہی میں فیڈریشنز کے لیے کوڈ آف کنڈیکٹ بنایا تین فیڈریشنز کے خلاف کارروائی بھی کی۔

ڈی جی اسپورٹس بورڈ ظہوراحمدنےاسپورٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی انشورنس کروانی ضروری ہے،پاکستان میں کھیلوں کےلیےجامع ماڈل بنانے کی ضرورت ہے،کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف فیڈریشنز اور کھلاڑیوں کی تجاویز درکار ہوں گی۔صدر پاکستان ٹینس فیڈریشن اعصام الحق نے اسپورٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیف گیمز ہوں گی یا نہیں؟ میں کافی پرجوش ہوں،اگر ریٹائرمنٹ لوں تو سیف گیمز کے دوران لینے کا پلان کروں گا،ایتھلیٹس کو فنانشل اور کھیلوں کے مواقع ضروری ہیں،کرکٹ کی طرح دیگر کھیلوں کو بھی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے،ہائیر ایجوکیشن کو کھیلوں میں پالیسی بنانے کی ضرورت ہے،اسکول میں چھٹی کے بعد ایک گھنٹہ طلباء کو کھیل کھلانے چاہیے۔

میں اسکول میں تھاتو ہر کھیل میں شرکت کرتاتھا،جو کھیل دکھایاجائےگا، اسی کو فروغ ملےگا،کرکٹ سے ناراض نہیں ہونا چاہیے، فیڈریشنز کی مارکیٹنگ ٹیم نہیں،کھیلوں کی فیڈریشنز کو مارکیٹنگ کی پالیسی بنانی چاہیے،پاکستان کرکٹ بورڈ کو مختلف فیڈریشنز کو مارکیٹنگ سکھانی چاہیے جس سے کھیلوں کو فروغ ملے،مختلف کھیلوں کے لیے کوچز، ٹریننگ کے لیے پالیسی بنانے کی ضرورت ہے،ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو بحال کرنا ضروری ہے، ٹینس فیڈریشن نےسیف گیمز میں بھارت سے زیادہ گولڈ میڈلز لینے کا ہدف بنانا چاہیے۔
مزید پڑھیں :پندرہ دن کا وقت دے رہا ہوں وفاقی حکو مت میرے ساتھ بیٹھے،وزیر اعلیٰ کے پی

متعلقہ خبریں