اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستانی روپے کی قدر میں توقعات سے بھی زیادہ تیز رفتار گراوٹ کا سلسلہ جاری ،ماہرین معاشیات نے ملکی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ملک کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ۔ ذرائع کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کے باعث خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے ،ضروری اشیا کے درآمدی بل کی ادائیگی کی صلاحیت پر شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ زر مبادلہ کے ریٹ بنیادی طور پر مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی کی وجہ سے سخت متاثر ہوئے جو کہ سکڑ کر تقریباً 9 سال کی کم ترین سطح 4 ارب 34 کروڑ ڈالر پر آ گئے ہیں۔اسٹاک مارکیٹ بھی سیاسی بے یقینی اور تشویشناک معاشی اشاریوں کے باعث شدید گراوٹ اور مندی کا شکار ہے 3.5 فیصد کمی کے بعد 38ہزار 342 پوائنٹس پر بند ہوئی۔
کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے روپے کو کنٹرول کیے جانے کے باوجود اس کی قدر میں کمی ہو رہی ہے، منگل کے روز روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 228 روپے 66 پیسے پر بند ہوا۔ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر میں آخری بار یکم دسمبر کواضافہ ہوا تھا جب یہ 0.12 فیصد بڑھ کر 223 روپے 69 پسے پر بند ہوا
روپے کی گراوٹ میں حالیہ دنوں میں تیزی آگئی جب کہ گزشتہ 6 سیشنز کے دوران اس کی قدر میں ایک روپیہ 25 پیسے تک کمی دیکھی گئی۔ڈالر کی قلت کے دوران انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں اس کے ریٹ میں بہت زیادہ فرق پیدا ہوگیا جس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے، اس نمایاں فرق کے باعث لیگل بینکنگ چینل سے آنے والی ترسیلات زر کو گرے مارکیٹ کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔















