اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور پی ٹی آئی امیدوار صنم جاوید کی ن لیگ آفس جلانے کے کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، جو 29 جنوری کو ضمانت پر فیصلہ سنایا جائیگا،انسداد دہشتگردی عدالت میں صنم جاوید کی ن لیگ آفس جلانے کے کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت پر کارروائی مکمل ہو گئی ہے،انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید چدھڑ نے کیس کی سماعت کی اورصنم جاوید کی ضمانت پر فیصلہ سنانےکیلئے آئندہ سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی،صنم جاوید کی جانب سے شکیل پاشا ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ ملزمہ صنم جاوید کو چھ ماہ بعد اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا،ڈپٹی پراسیکوٹر عبد الجبار ڈوگر نے ضمانت مسترد کرنیکی استدعا کی اور کہا 9مئی کے مقدمات عام گامے ساجھے کیسز نہیں9مئی کو ریاست پر منظم حملہ ہوا ملک پھر میں نو مئی کی 1300 ایف آئی آرز درج ہیں،ملزمہ صنم جاوید نے عوام کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسایا،ملزمہ نے خود بھی پٹرول بم پھینکے،مقدمہ کا چالان بھی جمع ہو چکا ہے کیس کا کچھ دن میں فیصلہ ہو جائیگا،یاد رہے کہ ملزمہ صنم جاوید کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج ہے۔صنم جاوید مسلم لیگ ن کا آفس جلانے کے مقدمہ میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،انسداد دہشتگردی عدالت میں صنم جاوید نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کو بتا دو میں میدان میں آگئی ہوں، میری انتخابی مہم میری فیملی چلائے گی، مریم نواز کا مقابلہ میرے لئے عوام کریگی،صنم جاوید نے کہا کہ مریم نواز نے ہمیشہ ویڈیو ریکارڈنگ کی سیاست کی ہے، جب ان پر برا وقت آتا ہے تو وہ باہر بھاگ جاتے ہیں، ہم اور ہمارا لیڈر اپنے ملک میں رہ کر عوام کی خاطر جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر نے شوگر ملز نہیں بنائی نہ کوئی کرپشن کی، غریب عوام کی فلاح کیلئے کام کیا، ہم نے یونیورسٹیاں بنائیں، عوام صحت کارڈز کو نہیں بھولے، صحت کارڈ عمران خان کے دور اقتدار کی کارکردگی تھی۔















