اہم خبریں

ہم آٹھ فروری کو اپنی حکومت بنائیں گے،بلاول

کوئٹہ (اے بی این نیوز    )بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد والو سن لو پاکستان کے عوام کسی کے غلام نہیں، اسلام آباد کو پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ عوام آپ کے کردار سے خوش نہیں ہیں،تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کو چوتھی مرتبہ منتخب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ہم ان کی ایسی کوشش کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے،ہم آٹھ فروری کو اپنی حکومت بنائیں گے،ہم چوتھی مرتبہ اس شخص کو نہیں مانتے،پاکستان میں دہشتگرد ایک مرتبہ پھر سراٹھارہے ہیں،افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں رہے،آٹھ فروری کو اپنا حق چھین کر لیں گے،پاکستان اس وقت بہت سے چیلنج کا سامنا ہے،ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری ہے جو ختم ہونےکا نام ہی نہیں لے رہی،وہ جلسہ سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہیہ جب بھی حکومت میں آتے ہیں تو اشرافیہ کو ریلیف دیتے ہیں،پیپلزپارٹی کی جب بھی حکومت بنی تو انہوں نے لوگوں کو ریلیف دیا،اگر ان کا وزیراعظم منتخب ہوگیا تو بلوچستان میں ترقی نہیں ہوسکے گی،آپ تیر کو کامیاب کرائیں میں اس ملک سے بیروزگاری اورمہنگائی کا خاتمہ کروں گا،پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تو آپ کی تنخواہیں ڈبل کروں گا،پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تو تین سو یونٹ مفت بجلی فراہم کریں گے،بلوچستان کے عوام ہمیں کامیاب کرائیں ہم ان کو مالکانہ حقوق دلائیں گے،آپ نے ہمیں کامیاب کرایا تو چھینی گئی زمین آپ کو وڈیروں سے لیکر دوں گا، کسان کارڈ لیکر آرہا ہوں ،اب سبسڈی بڑے لوگوں کے پاس نہیں جائے گی،آپ کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے،ملک سے غربت کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے،آپ نے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا ہے یہ آپ کو فیصلہ کرنا پڑے گا،پیپلزپارٹی ذاتی خواہشات پر سیاست نہیں کرتی،ہم عوامی خدمت کرتے ہیں،یہ جیل سے بچنے کیلئے الیکشن لڑ رہا ہوں،میں الیکشن آپ کی خوشحالی کیلئے لڑ رہا ہوں،یہ کیسا شیر ہے جو گھر میں چھپا ہوا ہے،میں لاہور سے بھی الیکشن لڑ رہا ہوں میں ان کے گھر میں گھس کر ماروں گا،یہ عوام سے ڈرتے ہیں،طاقت کا سرچشمہ صرف عوام ہے،ہم انتخابات لڑ رہے ہیں،ہم عوا م کی طرف دیکھتے ہیں،بلا نہیں رہا،اب تیر اورشیر کا مقابلہ ہوگا،،آپ ہمارا ساتھ دیں ہم تیر سے شیر کاشکار کریں گے،آپ اپنا ووٹ ضائع نہ کریں،جو مسئلے افغانستان کے ساتھ چل رہے ہیں ہم ملکر ان کوحل کریں گے،بھارت اور پاکستان کے بہت سے مسئلے ہیں نیت صاف ہوتوتمام مسائل حل ہوسکتے ہیں،بھارت سے کشمیر کے مسئلے پر بات کروں گا اور اس مسئلے کو حل کرائوں گا،،آپ نے میاں صاحب کی حکومت کو دیکھ لیا،میاں صاحب ان لوگوں سے لڑا جنہوں نے ان کو دوتہائی اکثریت دلائی،بلوچستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اسلام آباد کو پیغام پہنچانا چاہتا ہوں چاروں صوبوں کے عوام اسلام آباد میں بیٹھے حکمران کے کردار سے خوش نہیں ،ایک شخص کو آپ نے تین بار وزیر اعظم بنایا ،آج اس شخص کو چوتھی بار مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،پاکستان اور بلوچستان کے عوام اس شخص کو اپنا نمائندہ نہیں مانتے ،پاکستان کے عوام کسی کے غلام نہیں ،نصیر آباد کے عوام غیرت مند ہیں ،پاکستان کے عوام کسی کے آگے نہیں جھکتے کسی سے ڈرتے نہیں ،8فروری کو اپنا حق چھینیں گے عوام کی حکومت بنائیں گے،بلوچستان کے عوام اس شخص کو پہچانتے اور جان چکے ہیں ،پہلی بار اس شخص کو مسلط کیا گیا تو اس نے بلوچستان کے عوام کے حق پر ڈاکہ مارا ،جب دوسری بار اس شخص کو مسلط کیا تو پھر بلوچستان کے عوام کے حق پر ڈاکہ مارا،ہم نے ا س جماعت کو18ماہ کا موقع دیا ،جب تیسری بار اس شخص کو مسلط کیا گیا تو پوچھیں کیا اس نے وفا کی ؟تین بار ناکام شخص کو ہم کیوں چوتھی بار مان لیں ؟ہم نہیں مانتے ،ملک میں ایک طرف معاشی بحران ،دوسری طرف دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے ،خارجہ سطح پربھی پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں ،افغانستان ،ایران یابھارت ہمارے تعلقات اچھے نہیں رہے ،پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات نہ ہونے پر نقصان عوام اٹھا رہے ہیں ،کیا مہنگائی ،غربت اور بے روزگاری میں اضافہ نہیں ہوا،عوام کو ایسی جماعت چاہیے جو تین نسلوں سے غربت کا مقابلہ کر رہی ہے ،ایسی جماعت چاہیے جو بلوچستان کے عوام کی خدمت کرتی آرہی ہے ،وہ حکومت میں آتے ہیں تو امیر کو ریلیف عوام کو تکلیف دیتے ہیں ،جب پی پی حکومت بنتی ہے تو پاکستان کے غریب ،کسان کو ریلیف پہنچاتے ہیں ،یہ چوتھی بار وزیر اعظم بن گیا تو لکھ لیں اگلے 5سال بلوچستان میں ترقی نہیں ہو گی ،یہ چوتھی بار وزیر اعظم بن گئے تو بلوچستان کے عوام لاوارث رہیں گے پی پی حکومت بنی تو آپ کا وزیر اعظم ہو گا،
پی پی منشور عوامی معاشی معاہدہ ہے ،عوام سے وعدہ ہے تیر پر ٹھپہ لگائیں اور منشور کے 10نکات پر عمل کروں گا ،وعدہ ہے 10کے10نکا ت پر عمل کر کے مہنگائی ،غربت ،بے روزگاری کا مقابلہ کرونگا ،میں سندھ کے عوام سے گھر بناکر دینے کا وعدہ کیا تھا جیالہ وزیر اعلیٰ اور وزیر بنائیں تو مفت تعلیم اور صحت کے ادارے بنائوں گا ،نصیر آباد میں یونیورسٹی بنائوں گا ،مفت علاج کا ادارہ بنائوں گا ،میں اب سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے 20لاکھ گھر بنا کردے رہا ہوں ،بی آئی ایس پی میں اضافہ اور غریب خواتین کو بلاسود قرضہ دوں گا ،پی پی حکومت بنی تو تنخواہوں ،آمدن کو ڈبل کر کے دکھائوں گا،پی پی کی حکومت بنائیں تو ملک بھر کے غریبوں کو 300یونٹ مفت بجلی دوں گا ،نصیر آباد کے لوگوں کو خیر پور یاگمبٹ نہیں جاناپڑے گا،قائد عوام نے کسانوں کو زمین کا مالک بنایا تھا ،بلوچستان ،سندھ اور جنوبی پنجاب کے عوام کو سیلاب سے نقصان ہوا،ہمارے سیلاب متاثرین آج تک تکلیف میں ہیںمیرے ساتھ ن لیگ کے وزیر اعظم نے بلوچستان کا دورہ کیا تھا ،کیا سیلاب متاثرین ان کے کردار سے خوش ہیں یانہیں ،یہ کام بلوچستان اور نصیرآباد کے لوگوں کیلئے کیوں نہیں ہوا،آپ پی پی کی حکومت بنائیں میں بلوچستان کے عوام کو گھر ،مالکانہ حقوق بھی دوں گا ،غریب خواتین کو پکے گھر بنا کردوں گا ،مالکانہ حقوق دلائوں گا ،بلوچستان کے عوام نےقسمت کو بدلنا ہے توپی پی کا ساتھ دینا ہے ،یہ کس قسم کا شکار ہے کہ شیر گھر میں چھپا رہے ،اب دوجماعتیں رہ گئیں ہیں ایک پیپلزپارٹی اور ن لیگ۔

متعلقہ خبریں