دہلی ( اے بی این نیوز )بھارتی کسانوں نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت کل یعنی 12 فروری کو پورے بھارت میں ہڑتال ہوگی۔ بھارتی کسانوں کا کہنا ہے کہ زراعت کے شعبے میں بھارت نے امریکہ کو حد سے زیادہ رعایتیں دی ہیں جو مقامی کسانوں کے مفادات کے خلاف ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آج بھارتی پنجاب میں کسانوں نے احتجاج کیا اور امریکہ اور بھارت کے رہنماؤں کے پتلے نذر آتش کیے۔ کسان تنظیموں نے اس معاہدے کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے، جس سے بھارتی زرعی شعبے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل کے مطابق اس معاہدے کے تحت بعض بھارتی زرعی مصنوعات، جن میں کیلے اور آم شامل ہیں، کو امریکی منڈی تک بغیر کسی محصول (زیرو ٹیرف) کے رسائی حاصل ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں تقریباً 80 فیصد کسان چھوٹے کاشتکار ہیں، جو دو ہیکٹر یا اس سے کم زمین کے مالک ہیں، جس کی وجہ سے ان کی آمدنی محدود رہتی ہے۔ تاہم کسان ایک بااثر ووٹنگ بلاک کے طور پر اہمیت رکھتے ہیں اور مختلف حکومتیں لاکھوں کاشتکاروں کو ناراض کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں :چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کونسل کا اجلاس، اعلامیہ جاری















