اسلام آباد (رضوان عباسی )آزاد کشمیر حکومت، حکومت پاکستان اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین طے پانے والے معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے معاہدہ عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اجلاس میں شرکت نہ کرتے ہوئے بائیکاٹ کیا۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزراء اور آزاد کشمیر حکومت نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیر خزانہ آزاد کشمیر چوہدری قاسم مجید اور وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی شریک ہوئے۔ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان اور سیکرٹری کشمیر امور ظفر حسن بھی اس موقع پر موجود تھے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو نہایت سنجیدگی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اجلاس کی تاریخ سے بروقت آگاہ کیا گیا تھا، مگر وہ شریک نہ ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ 177 ایف آئی آرز ختم کی جا چکی ہیں جبکہ 15 قتل کے مقدمات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے نمٹائے جائیں گے۔بیشتر نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جن میں قیدیوں کی رہائی، سٹوڈنٹ یونین کی بحالی، کابینہ کے حجم میں کمی، محکموں کا انضمام، تعلیمی بورڈ اور اے جے کے بینک سے متعلق فیصلے شامل ہیں۔یو ایس ایف کے تحت سیلولر و انٹرنیٹ سروسز کے لیے چیف ایگزیکٹو کی تقرری کر دی گئی ہے۔
ہیلتھ کارڈ پروگرام 20 جنوری تک شروع کر دیا جائے گا۔امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر کی نئی حکومت نے قابل تحسین تیزی کے ساتھ نکات پر پیش رفت کی ہے اور وفاقی حکومت مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ قومی سطح کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی آج اپنی تیسری میٹنگ کر رہی تھی جبکہ دو اجلاس اسلام آباد اور مظفرآباد میں پہلے ہی ہو چکے ہیں۔بغیر کسی اعتراض اور اطلاع کے بائیکاٹ افسوسناک ہے اور مسئلے کے حل کی رفتار کو متاثر کرے گا ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات کے مطابق طے شدہ معاہدے پر 90 فیصد سے زیادہ عملدرآمد ہو چکا ہے ۔192 میں سے 177 ایف آئی آرز ختم کر دی گئی ہیں جبکہ 15 مقدمات پر جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔شہداء اور زخمیوں کے لیے معاوضے کی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے۔ شہداء کے خاندانوں کو ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو 10 لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال 18 ارب روپے کے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جبکہ اب تقریباً 35 ارب روپے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ معاہدے کے نکات پر عملدرآمد میں تیز رفتار پیش رفت ہو۔
ڈاکٹر طارق فضل نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بعض بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کو “جعلی باشندہ” قرار دینا انتہائی نامناسب، تقسیم پیدا کرنے کے مترادف اور قابل مذمت ہے۔دونوں وفاقی وزراء نے کہا کہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت مکمل عزم کے ساتھ عوامی مسائل کے حل اور معاہدے کے ہر نکتے پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بائیکاٹ ختم کرکے دوبارہ مذاکرات کا حصہ بننے کی دعوت دی۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف نئے قواعد نافذ















