اہم خبریں

قومی اسمبلی کے پہلے سال کی جائزہ رپورٹ، کیا کھویا کیا پایا،رپورٹ جاری

اسلام آباد ( اے بی این نیوز       )پلڈاٹ نے 16ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے 93 اجلاسوں میں صرف 212 گھنٹے کام ہوا۔ 16ویں قومی اسمبلی نے پہلے سال میں 47 بل منظور کیے۔

موجودہ اسمبلی میں بلوں کی منظوری گذشتہ اسمبلی سے 370 فیصد زیادہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 93 اجلاسوں میں سے صرف 17 میں شرکت کی۔ قومی اسمبلی کے پہلے سال میں فی ممبر 3 کروڑ 79 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔

قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے 62 اجلاسوں میں شرکت کی۔ عمر ایوب قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ بولنے والے ممبر ہیں۔ 16ویں قومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر کی۔
قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

قومی اسمبلی کے حاضری کے نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ 16ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال میں 49.18 فیصد ایجنڈا آئٹمز نامکمل رہے۔ موجودہ اسمبلی کے کام کا دورانیہ کام کے اوقات اور ایام کے حوالے سے گزشتہ اسمبلی کے مقابلے میں کم رہا۔

قومی اسمبلی کے پہلے سال میں ایک گھنٹے کام کرنے کی لاگت تقریباً 6 کروڑ روپے آئی۔ زیادہ تر بلوں کو مناسب وقت اور جانچ پڑتال کے بغیر فوری طور پر منظور کیا گیا۔ ممبران اسمبلی کی حاضری بھی اوسطاً 66 فیصد تک رہی۔ اسمبلی کا حاضری کا نظام 5 منٹ اور 5 گھنٹے تک اجلاس میں موجود ممبر ان میں کوئی فرق نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں :مال روڈ راولپنڈی کو آج رات سے ہر طرح کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا جا ئیگا،وجہ سامنے آگئی

متعلقہ خبریں