موبائل فون اور پورٹیبل الیکٹرانک آلات کو چارج کرنے والا جوتا مارکیٹ میں آ گیا

جدہ (نیوز ڈیسک)تونس کے بائیس سالہ نوجوان ریحان مننائی نے سائنس میں مزید جدت لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے جوتا ڈیوائس تیار کرلی . جوتا ڈیوائس پیدل چلنے والوں کے پاس موجود موبائل ودیگر سمال الیکٹرانک آلات کو چارج کرسکتی ہے .سمارٹ جوتے بنانے کا خیال اتفاقاً نہیں آیا، بلکہ قومی ڈیزائن کے مقابلوں میں سے ایک میں ان کی شرکت اور اس کے ایک سروے کے بعد آیا ۔ اس سروے میں میں تونس کے 100 شہری شامل تھے۔ ان کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں سب سے نمایاں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے زیادہ تر جوابات درج ذیل میں پیش کیے گئے .

تیونس کے نوجوان ریان مننائی نے توانائی کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش میں چلنے پھرنے کی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے کے قابل ایک سمارٹ جوتا ایجاد کرنے کے بعد ایک انٹرویو میں،ریان کی عمر 22 سال ہے، انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تونس میں چمڑے کے کپڑوں اور جوتوں کی ڈیزائننگ کے شعبے میں تربیتی مرکز سے کیا۔ وہاں ریان نے جوتوں کے ڈیزائن میں مہارت حاصل کی۔

ریان نے بتایا کہ اس ایجاد کے ڈیزائن اور تیاری میں محنت کی لاگت کا حساب لگائے بغیر اس کی لاگت کا تخمینہ 50 ڈالر لگایا گیا۔ اس تحقیق اور تنصیب میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔ یہ جوتا جب مارکیٹ میں آئے گا تو امید ہے کہ 100 ڈالر میں فروخت ہو سکے گا۔

قابل ذکر ہے کہ ریان نے اس سال ٹریننگ سینٹر سے گریجویشن کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اب سمارٹ جوتوں کی ڈیزائننگ کے شعبے میں اپنا پروجیکٹ شروع کرنے،

انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ ریان کا خیال ہے کہ اس کے اس منصوبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور پھر کو وہ اپنے اس پروجیکٹ کو بیرون ملک پروموٹ کر سکیں گے۔